1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ قانونی تقاضے پورے کرتا ہے؟

17 جنوری 2025

چند سیاسی و قانونی ماہرین عمران خان اور ان کی اہلیہ کو مشہور القادر ٹرست کیس میں دی گئی سزا کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ فیصلہ قانونی تقاضے پورے نہیں کرتا اور یہ پی ٹی آئی کو مذاکراتی میز پر جھکانے کا ایک حربہ ہے۔

https://p.dw.com/p/4pIF9
پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان
عمران خان کو چودہ برس اور ان کی اہلیہ کو سات برس کی قید کی سزا سنائی گئی ہےتصویر: Akhtar Soomro/REUTERS

کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی فیصلے ملک میں قانون کی عملداری اور جمہوری روایات کے فروغ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں اور حالیہ فیصلہ بھی سیاسی انتقام پر مبنی ہے، کیونکہ اس وقت حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات چل رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو فیصلہ تین دفعہ مؤخرکرنے کے بعد سنایا گیا ہے صرف اور صرف پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر جھکانے کے لیے کیا گیا ہے۔ بعض ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ملک کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کا اس فیصلے کے پیچھے خاص کردار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیصلہ قانونی تقاضے پورے نہیں کرتا کیونکہ یہ ایک کرمنل کیس نہیں تھا اسے ایک بڑے جرم کے طورپر ڈیل کیا گیا ہے۔

القادر ٹرسٹ کیس سے عمران خان اور ملک ریاض کا کیا تعلق ہے؟

ملک کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں، ''میرے علم میں نہیں کہ آج تک کسی سیاسی کیس کا میرٹ پر فیصلہ کیا گیا ہو اور اس ملک میں قانون ایک مذاق بن چُکا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے اور ایسے فیصلوں سے ملک میں کوئی بہتری نہیں لائی جا سکتی۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات میں اپوزیشن کو کیا دے سکتی ہے۔ اس کیس کا فیصلہ مؤخر کیا جا رہا تھا اور اب وہ بھی سنا دیا گیا۔ اب مذاکرات کامیاب ہو بھی جائیں تو کورٹ سے سنائے گئے فیصلے کو حکومت کیسے ختم کر سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کو اس کے لیے دوبارہ عدالت کا ہی رخ کرنا پڑے گا کیونکہ اس کیس کے فیصلے کا پتہ اب حکومت کے پاس موجود نہیں۔‘‘

عمران خان کی عبوری ضمانت، حالات بہتر یونے کی امید

پی ٹی آئی کے رہنما بھی یہ سمجھتے ہیں کہ القادر ٹرسٹ فیصلے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں خلل پیدا ہوگا۔ پی ٹی آئی کی سینیٹرفلک ناز کہتی ہیں ،''یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے اور یہ دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو گا۔ یہ عدالت کا فیصلہ ہے ہی نہیں، کوئی اور طاقت اس کے پیچھے ہے لیکن ہم ہمت نہیں ہاریں گے اور تمام فورمز پر اپنے دفاع کا حق استعمال کریں گے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے حکومت مذاکرات کے دوران اپنی مرضی کے نتائج حاصل نہیں کر سکتی۔‘‘

عمران خان کے حامی ان کے خلاف عدالتی فیصلوں پر سراپا احتجاج بنتے ہیں
عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ تین مرتبہ مؤخرکرنے کے بعد سنایا گیا ہےتصویر: Khurram Amin/AA/picture alliance

القادر ٹرسٹ فیصلے کی تفصیلات اور قانونی حیثیت کیا ہے؟

بروز جمعہ انسداد بدعنوانی کی عدالت نے عمران خان کو چودہ برس اور ان کی اہلیہ کو سات برس کی قید سنائی۔ القادر ٹرسٹ کیس کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کی ایک سو نوے ملین پاونڈ کی رقم برطانیہ کی حکومت نے منی لانڈرنگ کے جرم میں ضبط کر لی تھی اور کیونکہ وہ رقم پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے اور منی لانڈرنگ کے زریعے برطانیہ بھجوائی گئی تھی اس لیے وہ رقم پاکستان کی حکومت کو واپس کی جا سکتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک ریاض پر سپریم کورٹ نے غیر قانونی طور پر ہتھیائی گئی سرکاری زمین کے ایک کیس میں چار سو ساٹھ ارب کا جرمانہ دینے کا فیصلہ دیا ہوا تھا جو کہ ملک ریاض کو سات سال میں ادا کرنی تھی اور اس سلسلے میں کھولے گئے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کروانی تھی۔

القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد

عمران خان نے بطور وزیراعظم اس بات کی منظوری دی کہ برطانیہ سے حاصل شدہ رقم ملک ریاض کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروا دی جائے۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے یہ فائدہ ملک ریاض کو کیوں دیا کیونکہ برطانیہ سے آنے والی رقم تو حکومت کی تھی اور جرمانہ تو ملک ریاض نے علیحدہ سے ادا کرنا تھا۔ یہ الزام عائد کیا گیا کہ اس فائدے کو دینے کے بدلے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ نے القادر ٹرسٹ جس کے ٹرسٹی دونوں میاں بیوی ہیں، کے نام پر اربوں روپے مالیت کی زمین حاصل کی۔

عمران خان کی ضمانت منظور

اسلام آباد میں موجود سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت
عمران خان کے خلاف سنائے گئے فیصلے کو پی ٹی آئی اب سپریم کورٹ میں لے جائے گیتصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

پی ٹی آئی ہی کے کیس لڑنے والے قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اسے ایک تکنیکی بے ضابطگی مانا جا سکتا ہے لیکن اس طرح کے معاملات صرف تکنیکی غلطیوں کے زمرے میں آتے ہیں اور اس کی بنیا د پر اس طرح سزا نہیں دی جا سکتی۔ سینئر وکیل حامد خان کا کہنا ہے ''یہ ایک تکنیکی غلطی ہے۔ اسے رشوت کا کیس ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں ڈالی گئی رقم دوبارہ حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع کروائی جا سکتی تھی اور ملک ریاض کو پابند کیا جا سکتا تھا کہ وہ اپنے جرمانے کی رقم علیحدہ سے ادا کریں۔ یہ ایک قانونی نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ ہے اور طاقتور حلقوں کی طرف سے دبائو ڈال کر کروایا گیا ہے۔‘‘

عمران خان کا گرفتاری کے بعد عدالتوں میں مصروف دن

مزید قانونی راستے کیا ہیں اور انصاف کی کتنی اُمید ہے؟

حامد خان کا کہنا تھا کہ اب اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ ایک اچھی شہرت رکھنے والی عدالت ہے جس کے بہت سے جج اپنے بےباک فیصلوں کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ لیکن انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا،''یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ ججوں پر ملٹری اسٹبلشمنٹ کا بہت زیادہ پریشر ہے اور ہائیکورٹ کے چھ جج پچھلے سال اس بات کا اظہار بھی کر چکے ہیں تو اب کیس فائل کرنے کے بعد پتا چلے گا کہ کیا صورت حال بنتی ہے۔‘‘