نیوزی لینڈ میں ساحلی آلودگی، روایتی ماہی گیری مقابلہ منسوخ
20 اکتوبر 2011
نیوزی لینڈ کے نارتھ آئی لینڈ کے ایسٹ کیپ کے چھوٹے سے علاقے وائی ہاؤ بے میں مقامی فشنگ کلب کی طرف سے ہر سال لیبر ڈے ویک اینڈ کے موقع پر ماہی گیری کے ایک مقابلے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے اس دور دراز ساحلی علاقے میں اس مقابلے کے لیے ہر سال دو سو سے زائد مہمان دوسرے علاقوں یا بیرون ملک سے اس جگہ کا رخ کرتے ہیں۔
تب خاص طور پر یورپ، جاپان اور امریکہ سے آنے والے ان مہمان ماہی گیروں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے کہ گہرے سمندری پانی میں بڑی سے بڑی مچھلی کون پکڑتا ہے۔ ان ماہی گیروں میں سے ہر کسی کو یہ امید ہوتی ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی بہت بڑی مچھلی پکڑنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ان مچھلیوں میں سے سب سے اہم اور قیمتی پچاس کلو گرام تک وزن والی وہ مچھلی ہوتی ہے جس کی دم پیلی ہوتی ہے اور جو کنگ فش کہلاتی ہے۔
لیکن اس مرتبہ وائی ہاؤ میں اس مقابلے کی وجہ سے دکھائی دینے والی گہما گہمی نظر نہیں آئے گی۔ اس ویک اینڈ پر عام ماہی گیر مچھلیاں پکڑنے کے لیے اپنی اپنی فشنگ لائنز سمندر میں نہیں ڈال سکیں گے۔ اس کی وجہ سینتالیس ہزار ٹن وزنی تیل بردار بحری جہاز رینا سے بہنے والا وہ تیل ہے، جو اس ٹینکر کے تباہ ہونے کے بعد جمعرات کو سفید ریت والے ساحلی علاقے تک پہنچنا شروع ہو گیا تھا۔
رینا نامی یہ ٹینکر دو ہفتے سے بھی زیادہ عرصہ قبل اس ساحلی علاقے میں خشکی پر چڑھ گیا تھا۔ پھر اس پر لدے کافی سامان کے علاوہ کم از کم تین سو پچاس ٹن معدنی تیل بھی سمندر میں بہنا شروع ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نیوزی لینڈ میں بحری آمد و رفت اور سمندری مال برداری کے نگران قومی ادارے نے وائی ہاؤ بے میں ماہی گیری کے اس مقابلے کے منتظمین کو یہ مشورہ دیا کہ وہ لیبر ڈے ویک اینڈ پر منعقد ہونے والا مقابلہ اس سال منسوخ کر دیں۔
اب اس ساحلی علاقے میں سالانہ ماہی گیری مقابلے میں حصہ لینے والے مہمان اس سال وہاں نہیں گئے۔ وہ مقامی باشندے، جن کا رہائشی فلیٹس اور دیگر شعبوں میں کاروبار اس مقابلے کے موقع پر کافی چمکتا تھا، خاصے پریشان ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کا کہنا ہے کہ رینا نامی آئل ٹینکر کی تباہی سے اس علاقے میں ساحلی خطے کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن ماہی گیری کے مقابلے کی منسوخی سے ان کو جو نقصان ہو چکا ہے یا ابھی مزید ہو گا، وہ بہت زیادہ ہے۔
نیوزی لینڈ کے اس ساحلی علاقے کو رینا کی تباہی اور اس وجہ سے ماحولیاتی آلودگی سے جتنا نقصان ہوا ہے، وہ صرف وائی ہاؤ میں ماہی گیری کے مقابلے کی منسوخی تک ہی محدود نہیں۔ اب تو کئی ایسے غیر ملکی مہمانوں نے بھی اس علاقے میں اپنی گرمیوں کی چھٹیاں منانے کا پروگرام منسوخ کرنا شروع کر دیا ہے، جو پہلے ماہی گیری، کیمپنگ، کشتی رانی یا سرفنگ کے لیے اس علاقے کا رخ کرتے تھے۔
نیوزی لینڈ کے اس علاقے کے سبھی لوگ جانتے ہیں کہ اس سال لیبر ڈے ویک اینڈ ان کے لیے کافی زیادہ کاروباری نقصانات کا سبب بنے گا لیکن ان کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔
رپورٹ:عصمت جبیں
ادارت: امتیاز احمد